20 فروری، 2026، 12:45 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

مغربی ایشیا میں دفاعی طاقت کا نیا توازن؛ سعودی عرب اور پاکستان کے فوجی تعلقات میں اہم پیش رفت

مغربی ایشیا میں دفاعی طاقت کا نیا توازن؛ سعودی عرب اور پاکستان کے فوجی تعلقات میں اہم پیش رفت

2025 کے باہمی دفاعی معاہدے کے بعد ریاض اور اسلام آباد کے دفاعی تعلقات نئی سطح پر پہنچ گئے ہیں جس سے خطے میں سکیورٹی کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیاسی و عسکری صورتحال کے درمیان سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات صرف روایتی دوستی تک محدود نہیں رہے بلکہ اب ایک باضابطہ اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ۲۰۲۵ میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو اس تعلق کا اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے ممالک کا امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر پہلے جیسا اعتماد ختم ہورہا ہے۔ بعض علاقائی کشیدگیوں اور عسکری واقعات کے بعد خلیجی ریاستوں میں یہ احساس بڑھا ہے کہ انہیں اپنی سکیورٹی کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے ہوں گے۔

اسی تناظر میں سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دی ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے اور اس کی عسکری صلاحیت کو خطے میں ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ریاض اسلام آباد کے ساتھ قریبی دفاعی ہم آہنگی کے ذریعے اپنی ڈیٹرنس پاور کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، تاکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ خطرے کا مؤثر جواب دیا جاسکے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے، جس کے تحت کسی ایک فریق کو درپیش خطرہ دونوں کے لیے مشترکہ چیلنج تصور کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کے ساتھ پاکستان کا کردار خطے میں پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے اور وہ ایک فعال سکیورٹی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک ہم آہنگی مستقبل میں خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کرسکتی ہے۔ مجموعی طور پر مغربی ایشیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہورہا ہے جہاں سکیورٹی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم اور علاقائی تعاون پر زور زیادہ دیا جا رہا ہے۔

مغربی ایشیا کے نئے منظرنامے میں دفاعی روابط کی ضرورت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو محض اسلحے کی خرید و فروخت کا معاملہ نہیں بلکہ اسے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک نئی اسٹریٹجک ہم آہنگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعاون مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کی روایتی طاقت کی سیاست کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت ستمبر ۲۰۲۵ میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے اور ترکی، پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعاون کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ اس اشتراک کے نتیجے میں اسلحے کی فراہمی کا نظام اب محض تجارتی سرگرمی نہیں رہا بلکہ اسے خطے کے حساس علاقوں، جیسے سوڈان اور لیبیا، میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

نئے منظرنامے میں تینوں ممالک کے درمیان واضح ذمہ داریاں نظر آتی ہیں۔ پاکستان جے ایف-17 لڑاکا طیارے کی تیاری اور اسمبلنگ کے مرکز کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی عرب مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے وژن 2030 کے تحت دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینا چاہتا ہے۔ ترکی جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً فضائی نظام اور اسلحہ جاتی آلات کی فراہمی میں اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

حالیہ سفارتی اور عسکری سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط بنانے کے لیے دفاعی تعاون کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے مالی معاملات اور دفاعی سودوں کو باہم جوڑ کر میدان جنگ میں توازن بدلنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر سوڈان جیسے تنازعات میں جہاں مختلف علاقائی قوتیں بالواسطہ طور پر سرگرم ہیں۔

اس بدلتے ہوئے ماحول میں پاکستان، جو ماضی میں نسبتا محتاط خارجہ پالیسی اختیار کرتا رہا، اب سعودی-ترکی محور کے ساتھ زیادہ واضح ہم آہنگی دکھا رہا ہے۔ اس تعاون کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے نیٹو پلیٹ فارمز یا روسی لاجسٹک نظام پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
مجموعی طور پر یہ سہ فریقی اشتراک ایک ایسے دفاعی اتحاد کی بنیاد رکھ رہا ہے جو خطے کے اندر ہی وسائل، ٹیکنالوجی اور پیداوار پر انحصار کرے۔ اس تناظر میں اسلحے کی برآمدات صرف معاشی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے اور ابھرتے ہوئے بلاک کی پوزیشن مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی سمجھی جا رہی ہیں۔

پاک-سعودی دفاعی رہنماؤں کی ملاقات؛ دفاعی معاہدے میں پیش رفت

ریاض اور اسلام آباد سیاسی اتحاد سے آگے بڑھ کر مربوط سکیورٹی اور معاشی شراکت داری کی طرف گامزن دکھائی دیتے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیرِ دفاع اور پاکستان کے آرمی چیف کے درمیان حالیہ ملاقات کو ماہرین محض رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ستمبر ۲۰۲۵ کے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کو عملی شکل دینے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک اب سیاسی تعاون سے آگے بڑھ کر ایک منظم سکیورٹی اور معاشی ہم آہنگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس ملاقات کا ایک اہم پس منظر پاکستان کو درپیش بیرونی قرضوں کا دباؤ اور سعودی عرب کی دفاعی ضروریات میں تنوع پیدا کرنے کی حکمت عملی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو ارب ڈالر کے قرض اور جے ایف-17 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فراہمی سے متعلق پیچیدہ مذاکرات جاری ہیں، جنہیں وسیع تر دفاعی تعاون کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں ایک نئی قسم کی علاقائی ہم آہنگی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں خلیج فارس کی سکیورٹی کو جنوبی ایشیا کی عسکری صلاحیتوں کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔ اس تناظر میں ناقابل تقسیم سکیورٹی کا تصور، جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں کے خلاف تصور کیا جائے گا، محض سفارتی بیان نہیں بلکہ عملی دفاعی اصول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق سعودی عرب اس تعاون کے ذریعے اپنی سکیورٹی حکمت عملی کو ازسر نو ترتیب دے رہا ہے تاکہ مغربی طاقتوں پر مکمل انحصار کم اور ایک علاقائی دفاعی بلاک کو مضبوط بنایا جاسکے۔ دوسری جانب پاکستان اپنی عسکری صنعت اور دفاعی پیداوار کو معاشی استحکام کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کررہا ہے، تاکہ عالمی توانائی راہداریوں اور سکیورٹی ڈھانچے میں اپنا کردار مستحکم بناسکے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ملاقات روایتی دوطرفہ تعلقات سے آگے بڑھ کر ایک مشترکہ دفاعی ڈھانچے کی تشکیل کی علامت ہے، جس کا مقصد خطے میں ابھرتے ہوئے غیر روایتی اور غیر متوازن خطرات کا مشترکہ مقابلہ کرنا ہے۔

حاصل سخن

2025 کے دفاعی معاہدے اور ریاض، اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان بنتے ہوئے اسٹریٹجک مثلث کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرق وسطی ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خطہ بتدریج مغربی سکیورٹی چھتری سے نکل کر ایک نئے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جسے علاقائی اور باہمی دفاعی تعاون پر مبنی نظام کہا جاسکتا ہے۔ روایتی سکیورٹی ضمانتیں جب ابھرتے ہوئے خطرات کے سامنے کمزور دکھائی دیں تو سعودی عرب نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی۔ اس نے پاکستان کی معاشی ضروریات اور اپنی دفاعی ترجیحات کو باہم جوڑتے ہوئے ایک ایسا تعاون تشکیل دیا جس کے ذریعے وہ ایشیائی شراکت داروں کی عسکری اور لاجسٹک صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس عمل سے اگرچہ خطے میں طاقت کا توازن کسی حد تک برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی، لیکن ساتھ ہی اسلحے کی فراہمی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافے نے کشیدگی کے امکانات بھی بڑھا دیے ہیں۔

یہ نئی صف بندی خلیج فارس کی سکیورٹی کو جنوبی ایشیا کی حرکیات سے جوڑ رہی ہے اور خطے میں ایک نسبتا خودمختار طاقت کا مرکز ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جب کوئی اتحاد مکمل سکیورٹی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسرے فریق خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں، جس سے مجموعی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ یہ نیا اتحاد مختصر مدت میں بھارت، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے مقابل توازن قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں خطے کا استحکام اسی صورت ممکن ہوگا جب طاقت کے اس نازک توازن کو دانشمندی سے سنبھالا جائے اور کسی بھی غلط اندازے یا عسکری مہم جوئی سے گریز کیا جائے۔ خطے کی آئندہ سمت کا انحصار اسی احتیاط اور حکمت عملی پر ہوگا۔

News ID 1938159

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha